Powered by Blogger.

Site

irfanbiss.blogspot.com

انٹرنیٹ سے ہی کمائہیں


نامور کالم نگار اور تجزیہ نگارعمار چودھری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔اور یہ سارے پیسے اس نے انٹرنیٹ سے ہی کمائے ہیں۔ میں نے کہا: پھر تو وہ یقینا مائیکروسافٹ کا آئن سٹائن ہو گا‘ وہ آکسفورڈ کا تعلیم یافتہ ہو گا یا پھر اس کے پاس ڈھیر سارا پیسہ ہو گا جو اس نے کاروبار میں لگایا اور اتنا مال کما لیا۔ میرے دوست نے قہقہہ لگایا اور اپنی ران پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا: ایسا کچھ بھی نہیں۔ نہ وہ آکسفورڈ کا پڑھا ہے نہ ہی اس نے کاروبار میں کوئی مال لگایا ہے۔ اس کا باپ دراصل اسے ڈاکٹر بنانا چاہتا تھا لیکن اسے دلچسپی نہ تھی۔ اس نے میڈیکل چھوڑ کر بی بی اے میں داخلہ لے لیا۔ اسے کاروبار کرنے کا جنون تھا مگر وہ دوسروں سے کچھ مختلف کرنا چاہتا تھا۔ یہ دو ہزار دس کی بات ہے۔ اس نے فری لانسنگ کا ایک سیمینار اٹینڈ کیا۔ اس سیمینار نے اس کی زندگی کا رُخ موڑ دیا۔ وہاں اسے معلوم ہوا کہ انٹرنیٹ پر فائیور ڈاٹ کام اور دیگر ویب سائٹس پر مختلف کام کر کے بھی پیسے کمائے جا سکتے ہیں؛ تاہم انٹرنیٹ پر پیسہ کمانا آسان نہ تھا۔ اس کے لئے اسے مطلوبہ شعبوں میں مہارت درکار تھی۔

اس نے انٹرنیٹ اور یو ٹیوب کو اپنا استاد بنا لیا‘ اور سیلف لرننگ کرنے لگا۔ اس نے ویب سائٹ ڈویلپمنٹ کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنا شروع کیں۔ فائیور ڈاٹ کام پر ان تمام سروسز کی فہرست بنا لی جن کے زیادہ آرڈر دئیے جاتے تھے۔ کچھ لوگ اور کمپنیاں اپنی ویب سائٹ کی گوگل رینکنگ بڑھانے کی خواہشمند تھیں اور کچھ نئی ویب سائٹس بنوانے یا ان میں تبدیلی لانا چاہتی تھیں۔ وہ دو تین سال تک انٹرنیٹ سے سیکھتا رہا اور دو ہزار تیرہ میں اس نے فائیور پر اپنا اکائونٹ بنایا۔ اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب ایک مہینے تک اسے کام ہی نہ ملا؛ تاہم وہ مایوس نہ ہوا۔ اس نے اپنی پروفائل میں تھوڑی سی تبدیلی کی۔ اپنی تیس سیکنڈ کی ایک ویڈیو بنائی جس میں اس نے بتایا کہ وہ کلائنٹس کو کون سی سہولیات کس قدر بہتر انداز میں بروقت دے سکتا ہے۔ جیسے ہی اس نے یہ تبدیلی کی اسے اگلے ہی روز پانچ ڈالر کا ایک آرڈر موصول ہو گیا۔ اس نے وہ کام کر دیا اور یوں چار ڈالر اس کے اکائونٹ میں آ گئے جبکہ ایک ڈالر فائیور نے بطور کمیشن رکھ لیا۔ اس کا کام اعلیٰ معیار کا تھا؛ چنانچہ کلائنٹ نے جو ریویو لکھا اس میں اس کے معیار کی تعریف کی۔

آہستہ آہستہ اسے مزید آرڈر ملنے لگے۔ فائیور پر کام کروانے والوں میں اسی فیصد کمپنیاں اور بیس فیصد انفرادی لوگ ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ ایک سے زیادہ اکائونٹ بنا کر یا جعلی ناموں سے کام کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید اس طرح زیادہ کام ملے گا لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ اس لڑکے نے ایک اکائونٹ بنایا اور وہی اس کی پہچان بن گیا۔ جیسے ہی اس کے پچاس آرڈر مکمل ہوئے‘ فائیور نے اسے لیول ٹو دے دیا۔ آہستہ آہستہ اس نے اپنے کام کی فیس بڑھا دی۔ فی الوقت وہ ایک کلائنٹ سے ایک سو بائیس ڈالر وصول کر رہا ہے۔ اس کے اکائونٹ پر پینتیس ہزار ریویوز موجود ہیں۔ یعنی وہ گزشتہ پانچ سالوں میں پینتیس ہزار آرڈر مکمل کر چکا ہے جنہیں ایک سو بائیس ڈالر سے ضرب دی جائے تو پچپن کروڑ روپے کی رقم بنتی ہے۔ یہ ایک سال کے گیارہ کروڑ اور ایک مہینے کے تقریباً ایک کروڑ بنتے ہیں۔ یہ لڑکا ساری زندگی نوکریوں میں ایڑیاں بھی رگڑتا رہتا تب بھی ایک مہینے کے ایک کروڑ نہیں کما سکتا تھا۔ یہ فائیور سے کام لیتا ہے اور اپنی ٹیم میں بانٹ دیتا ہے۔ یہ اس وقت فائیور کا سپر سیلر بن چکا ہے۔ پاکستان میں شاید دس بارہ افراد فائیور کے سپر سیلر ہوں گے۔

میں نے انٹرنیٹ پر ریسرچ کی تو حیران رہ گیا۔ دنیا میں نوکری اور کاروبار کا رخ انٹرنیٹ کی طرف موڑنے والی فری لانسنگ کی ویب سائٹ فائیور کا ہیڈ کوارٹر تل ابیب اسرائیل میں ہے۔ یہ رینکنگ میں امریکہ کی پہلی سو اور دنیا کی پانچ سو ٹاپ ویب سائیٹس میں شامل ہے۔ آٹھ برس قبل بننے والی ویب سائیٹ کے دو موجد طلبا کا مقصد یہ تھا کہ انٹرنیٹ پر ایسا پلیٹ فارم بنایا جائے جہاں مختلف سروسز بیچی اور خریدی جا سکیں۔ جب آپ فائیور پر پر اپنا اکائونٹ بناتے ہیں اور کوئی آپ سے سروس لیتا ہے تو فائیور کی زبان میں آپ ایک gig (سروس) مکمل کر لیتے ہیں۔ آپ کی gigs جتنی زیادہ ہوں گی‘ اس پر جتنے اچھے ریویوز ہوں گے اتنا ہی زیادہ آپ کو کام ملنے کا مواقع زیادہ ہوں گے۔ فائیور کے علاوہ‘ فری لانسر ڈاٹ کام‘ پیپل پَر آور ڈاٹ کام اور اپ ورک ڈاٹ کام بہت زیادہ معروف ہیں۔ ابتدا میں لوگ زیادہ تر فائیور سے ہی شروع کرتے ہیں اور بڑے آرڈرز کے لئے اپ ورک کا رخ کرتے ہیں۔ فائیور نے موبائل ایپ بھی لانچ کی ہوئی ہے‘ اور آپ اس پر درجنوں کام کر سکتے ہیں۔ مثلاً لوگو ڈیزائننگ‘ ایس ای او‘ سوشل میڈیا مارکیٹنگ‘ ٹرانسلیشن‘ پروف ریڈنگ اور

ایڈیٹنگ‘ میوزک پروموشن‘ ریسرچ‘ ویب پروگرامنگ‘ پروموشنل ویڈیوز‘ ویڈیو مارکیٹن

Tag : News Updates
0 Komentar untuk "انٹرنیٹ سے ہی کمائہیں"

Back To Top