Powered by Blogger.

Site

irfanbiss.blogspot.com

کالا باغ ڈیم کے مخالفین یابھارتی ایجنٹ

کالا باغ ڈیم کے مخالفین یابھارتی ایجنٹ ۔
Jun 06, 2018
www.Worldinfotoday.com
پاک فوج کے ترجمان نے حالیہ میڈیا کانفرنس میں واضح طور پر کہاہے کہ آئندہ جنگیں پانی کے مسئلے پر لڑی جائینگی یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اس وقت پاکستان کو جس انداز میںپانی کی کمی کا سامنا ہے اسے فوری طور پورا کرنا بہت ضروری ہے ،پاکستان میں کالاباغ ڈیم پانی کو جمع کرکے اس سے بجلی بنانے اورزرعی زمینوں کو سیراب رکھنے کا ایک عظیم منصوبہ ہے جس کی تعمیر کو اس ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں اور قوم پرست تنظیموں نے متنازع بنا رکھاہے ،صوبہ پنجاب میں اس منصوبے کی مخالفین کی تعداد نہ ہونے کے برابرہے،بلوچستان چونکہ سندھ سے پانی لیتا ہے اس لیے براہ راست تعلق نہ ہونے کے باوجود سندھ کی ہاںمیں ہاں ملاتاہے ، جبکہ اس منصوبے کی تعمیر میں صوبہ سندھ اور خیبر پختونخواہ سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ابھی تک پنجاب اسمبلی میں اس منصوبے کے خلاف کوئی آوازنہیں اٹھی ہے باقی صوبوں میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف سخت بغض اور تحفظات سے بھرپور قراردادوں نے کالاباغ ڈیم کے اس عظیم منصوبے کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کا کام کیاہواہے ، اس عظیم منصوبے میں مخالفین کا ایجنڈا سمجھ سے بالا تر ہے ،یہ طے ہے کہ اس منصوبے کی تعمیر میں آخری اجازت صوبہ سندھ سے لینی ہوگی جسے اگر سب سے بڑا مخالف کہا جائے تو درست ہوگا ،سندھ میں تو ویسے ہی پانی کے لیے ایک طویل عرصے سے غریب عوام لمبی لائنوں میں لگے ہوئے ہیں ۔ اس پر آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان بھرمیں آئندہ دس سالوں تک پانی مکمل طورپر ناپید ہوجائے گا ،افسوس کہ یہ مخالفین اس منصوبے کے بڑے بڑے فوائد کو ایک طرف رکھ کر چند نقصانات کو زیادہ اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس کے لیے سوائے چند ایک قوم پرستوں کے عام آدمی کو تو اس منصوبے کی الف ب کا بھی نہیں معلوم ہے ، اور جن لوگوں کو تحفظات ہیںوہ لوگ اپنے جلسوں میں ایسے ہزاروں لوگوں کو لاکر کالا باغ ڈیم کے خلاف نعرے لگواتے ہیں جن کو معلوم ہی نہیں ہے کہ کالاباغ ڈیم ہے کیا چیز جس سے یہ معلوم ہوتاہے کہ عوام میں سب سے پہلے اس منصوبے کے لیے شعور کو بیدارکرنا بہت ضروری ہے ، اس کے علاوہ جودریائے سندھ کا اربوں کھربوں گیلن پانی سمندر میں جاکر گرتا ہے اور ضائع ہوجاتاہے، یعنی ایک طرف تو ہم سمندر کا کھارا پانی میٹھا کرنے کے منصوبوں پر مرے مٹے جارہے ہیں تو دوسری جانب اربوں کھربوں گیلن میٹھا پانی کھارا کردیا جاتاہے ۔جبکہ اللہ کی طرف سے کالاباغ ڈیم کی حدود اس انداز میں بنی ہوئی ہے کہ اس پر اگر کام شروع کیا جائے تو اس میں رکاوٹوں کا سلسلہ نہ ہونے کے برابر ہے اگررکاوٹ ہے تو صرف زمین پر فساد کرنے والے انسانوں کی طرف سے ہے جواپنے پاکستانی بھائیوں کو چھوڑ کر بھارت کی خوشنودی کے ایجنڈے پر گامزن ہیں۔جبکہ سندھ کے حکمران یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ سندھ میں ان کا زرعی نظام کس قدر تیزی سے سکڑتا چلا جارہاہے اندرون سندھ معیشت کا دارومدار پانی پر ہے جس کی کمی کو کالا باغ ڈیم ہی باآسانی پوراکرسکتاہے ،اس کے لیے اس کی تعمیر میں چھ یا سات سال کا عرصہ تو لگ سکتاہے مگر ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق کالاباغ ڈیم 20ارب یونٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتاہے،جس سے سالانہ 300ارب روپے کی بچت ہوگی ماہرین کے مطابق اس منصوبے کی تعمیر سے 3600سے میگا واٹ بجلی پیدا کرکے عوام کو صرف ڈھائی روپے فی یونٹ میں بجلی دی جاسکے گی ۔ہمیشہ سے ہی کالاباغ ڈیم پر چند اعتراضات لگاکر اس مسئلے کو دبایا جاتارہاہے ان اعتراضات کو دور بھی کیا جاسکتاہے مگر مل بیٹھ کر کیوں کہ اس منصوبے میں نسلوں کی خوشحالیاں پوشیدہ ہیں،جس کے لیے میری ایک رائے یہ ہے کہ واپڈا کو چاہیے کہ وہ فوری طورپر سندھ کے پی کے اور پنجاب کے رہنمائوں کو ایک ٹیبل پر بٹھائے اور اس میںکالا باغ ڈیم کے ڈیزائن پر بات کی جائے،اس کے علاوہ سندھ کے قوم پرستوں نے گزشتہ کئی سالوں سے تھل کینال کے خلاف احتجاج کیا ہوا ہے ان لوگوں میں سندھ میں موجود تھل کینال کو پنجاب کا منصوبہ سمجھا جاتاہے وہ سمجھتے ہیںکہ کالاباغ ڈیم اور تھل کینال کے خلاف یہ تحریک سندھ کو بچانے کی تحریک ہے لہٰذا ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ تھل کینال کو اگر ختم کردیاجائے تو کالا باغ ڈیم پر بات ہوسکتی ہے لہٰذاا س پر بحث کا ہونا بہت ضروری ہے اور یہ کردار واپڈااداکرسکتاہے ،واپڈانے 1990میں 485سینئر انجینئروں سمیت 1900سپروائزروں ،سروے اپڈیشن اہلکاروں کو اس منصوبے پر کام کرنے کی ہدایت جاری کی تھی جنھوں نے 1990سے لیکر 2001تک اس منصوبے پر تیزی کے ساتھ کام کیامگر 2001میں یہ منصوبہ سیاستدانوں کی سیاست کی نذرہوگیا۔ تاریخ بتائی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاملے کولیکر آج تک پاکستان نے اس معاہدے پرکبھی سنجیدگی نہیں دکھائی ہے اس معاہدے میں ستلج او

Tag : News Updates
0 Komentar untuk "کالا باغ ڈیم کے مخالفین یابھارتی ایجنٹ"

Back To Top