Powered by Blogger.

Site

irfanbiss.blogspot.com

لال مسجد آپریشن کیوں ہوا

لال مسجد آپریشن کیوں ہوا

؟ کچھ تلخ حقائق

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں لال مسجد اور قبائیلی علاقوں میں آپریشن نے پاک آرمی کو بہت بدنام کیا ہے ۔ جتنے منہ اتنی باتیں ، کوئی فوج کو ننگی گالیاں دے رہا ہے تو کوئی کہتا ہے ڈالر لے کریہ دونوں کام ہوئے۔

کوئی لال مسجد والوں کو قصوروار ٹھہراتا ہے ۔

ایک مسلمان ہونے کے ناطے لال مسجد آپریشن سب کے لیے باعثِ شرم ہے ۔ مسجد کا تقدس پامال ہوا، قرآن پاک اور لوگ بھی شہید ہوئے اور ایک بہت بُرا تاثر قائم ہوا۔

لال مسجد والوں کا کہنا تھاکہ اسلامی شریعہ نافذ ہو۔ بے حیائی کے اڈے بند ہوں ۔
بات ٹھیک تھی کوئی شک نہیں، لیکن طریقہ غلط تھا۔

اپنی بات کو منوانے کیلیے انہو ں نے لوگوں کو اغوا بھی کیا۔

اسلحہ کے زو ر پے بدمعاشیاں بھی کی ۔

عورتوں کو سرِ عام بازار میں زلیل کیا گیا ۔

سی ڈی شاپ کو آگ لگائی گئی

اسکے باوجود 18 ماہ تک کوئی آپریشن نہیں کیا گیا ۔

کیونکہ یہ مسئلہ اس وقت تک آرمی کا نہیں تھا۔ بلکہ مسئلہ تب اسلام آباد لوکل گورنمنٹ اور پولیس کا تھا۔

مارچ 2007 میں لال مسجد کی طالبات نے تین عورتوں کو اغوا کیا اور الزام عائد کیا کہ یہ جسم فروشی کا کاروبار کرتی ہیں ۔ بعد میں ان کو رہا کیا گیا۔

فروری2007 کو عبد العزیز نے پاکستان سپریم کورٹ کے متوازی "شرعیہ کورٹ" بنالی اور دھمکی دی گئی اگر اس شرعیہ کورٹ کی بات نا مانی گئی یا کورٹ ختم کی گئی تو ہزاروں خود کش حملہ آوروں کو کھلی آزادی ہو گی وہ جہاں مرضی خود کش حملہ کریں۔

لال مسجد کے طلبہ و طالبات نے 'چلڈرن لائیبریری' پر دھاوہ بول دیا اور قبضہ کر لیا لیکن انہوں نے یہیں تک بس نہیں کیا بلکہ دس چائینیز اور بہت سے لوگوں جن میں مرد اور خواتین شامل ہیں کو اغوا کیا۔

تین جولائی 2007 کو جامعہ حفصہ کی طالبات کی پاکستان رینجرز کے ساتھ جھڑپ ہوئی۔ عینی شاہدین کے مطابق پاکستان کے رینجرز نے ہوائی فائرنگ کی لیکن ڈنڈا بردار طالبات نے ان سے وائرلیس سیٹ اور ہتھیار چھین لیے۔ رینجزز کو فلحال کوئی حکم نہیں تھا جوابی کاروائی کا۔ پولیس آئی اور آنسو گیس کے گولے فائر کر کے رینجرز کو چھڑایا۔

لیکن بات یہیں نہیں ختم ہوئی بلکہ پھر ڈیرھ سو طلبہ و طالبات نے محکمہ موسمیات کی عمارت پہ حملہ کر دیا اور وہاں آتے جاتے لوگوں پر فائرنگ شروع کر دی۔پولیس اور رینجرز نے وہاں جوابی کاروائی کی۔ اس آپریشن کے خاتمے پر 9 لوگ ہلاک ہوئے جن میں 4 لال مسجد کے حملہ آور بھی تھے۔ وہ علاقہ فوراً خالی کروا لیا گیا اور پاک آرمی کے شردل جوانوں نے کنٹرول سنبھال لیا۔

آگلے دن پورے علاقے میں کرفیو لگا دیا گیا اور آرمی کو حکم ملا کہ کوئی بھی مسجد سے باہر اسلحہ سمیت نکلے تو فوراً پکڑ لیا جائے، اگر مزاحمت ہو تو گولی مار دی جائے۔

حکومتِ پاکستان نے فی طالبات کو پانچ پانچ ہزار مع فری تعلیم کی پیش کش کی طالبات کو ان کے گھر پہنچانے کی ضمانت بھی دی گئی ۔

چار جولائی 2007 تک دونوں اطراف سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران حکومت کی جانب سے دو بار ڈیڈ لائن بھی دی گئی۔ لیکن لال مسجد کی انتظامیہ نے ہتھیار نہیں پھینکے ۔

پانچ جولائی کو تیسری اور چوتھی ڈیڈ لائن دی گئی کیونکہ پاکستان آرمی کسی بھی صورت مسجد میں آپریشن نہیں کرنا چاہتی تھی۔

اسی دوران عبدالعزیز برقع پہن کر بھاگنے کی کوشش میں گرفتار ہوئے۔

جب اپنے لیڈر کو گرفتار ہوتے دیکھا تو چار سو طالبات اور آٹھ سو کے قریب طلبہ ہتھیار پھنک کر اپنے آپ کو حکومت کے حوالے کر دیا۔

چھ جولائی کو بھی مسجد میں حکومت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لوگ مذاکرات کرنے گئے ، عبدالعزیز کے چھوٹے بھائی عبدالرشید کے ساتھ مذاکرات ہوئے، لیکن کامیاب نا ہو سکے، عبدالرشید نے کہا کہ میری ماں کو با حفاظت باہر لے جایا جائے اور انکا علاج کروایا جائے، ہم ہتھیار پھینک دیں گے لیکن کسی کو کچھ نا کہا جائے۔

حکومتی وفد خوشی خوشی واپس آ گیا کہ شاید مذاکرات کامیاب ہو نے جا رہے ہیں ۔لیکن کچھ ہی دیر بعد لال مسجد سے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی۔ اسی شام جیو نیوز کے لائیو پروگرام میں عبدالرشید اپنی شرائط سے پھر گئے۔ ممکن ہے مسجد کے اندر کچھ القائدہ کے دہشت گرد موجود تھے جنہوں نے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کروائی اور عبد الرشید کو مطالبات سے مکر جانے پر مجبور بھی کیا تاکہ فوج کو آپریشن پر مجبور کیا جاسکے۔

اس دوران اکیس مزید طلبہ و طالبات نےاپنے آپ کو حکومت کے حوالے کر دیا، اور پاک آرمی کے جانثار کمانڈوز کو مسجد کا گھیرا کرنے کا حکم ملا۔

لیکن پاک آرمی کے جوانوں کو مسجد کی جانب سے سخت اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کا سامنا تھا،

جنرل مشرف اسلام آباد سے بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کیلیے نکلے، جونہی ان کے طیارے نے پرواز کی، لال مسجد کی چھت سے اینٹی ائیر کرافٹ گن سے ان کے طیارے کو نشانہ بنایا گی

0 Komentar untuk "لال مسجد آپریشن کیوں ہوا"

Back To Top