Powered by Blogger.

Sehwan shrif bomb dhamakah report urdu story

لعل شہباز قلندر کے مزار پر خودکش حملے میں 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے
پاکستان کے شہر سیہون میں صوفی بزرگ قلندر لال شہباز کے مزار میں خودکش حملے کے مبینہ سہولت کار کا کہنا ہے کہ مشن مکمل کرنے پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے انھیں سام سنگ ایس 6 موبائل فون اور 65 ہزار روپے انعام میں دیے تھے۔

رواں سال 16 فروری میں لال شہباز قلندر کے مزار میں خودکش بم حملے کے نتیجے میں 83 سے زائد زائرین ہلاک ہوگئے تھے، جس میں سہولت کاری کے الزام میں نادر علی جکھرانی نامی ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے۔

نادر علی نے اپنے ہاتھ سے تحریر کیے گئے بیان میں بتایا ہے کہ ان کا تعلق کشمور کے علاقے تنگوانی سے ہے۔ 16 فروری کو انھوں نے ڈاکٹر غلام مصطفیٰ مزاری، برار بروہی اور صفی اللہ کے ہمراہ سیہون کی درگاہ میں خودکش حملہ کیا تھا، جس کی منصوبہ بندی ڈیرہ مراد جمالی بلوچستان میں کی گئی تھی۔

سیہون دھماکے کے بعد ’ 100 سے زیادہ شدت پسند ہلاک‘

سیہون میں ہلاکتیں 83، ملک بھر میں سکیورٹی آپریشن

’دھماکہ ہوگا تو کیا ہوگا، مر جائیں گے‘

شہباز کرے پرواز

پاکستان میں مزاروں پر حملوں کی تاریخ

ملزم کے بیان کے مطابق 'منصوبہ بندی میں میرے علاوہ برار بروہی، صفی اللہ، ڈاکٹر غلام مصطفیٰ مزاری، عبدالستار، اعجاز بنگلزئی، فاروق ، ذوالقرنین اور تنویر موجود تھے۔ میں چونکہ سیہون شہر سے واقف تھا اس وجہ سے مجھے اس مشن کا سربراہ مقرر کیا گیا۔'

کراچی کی مقامی عدالت میں دیے گئے اس تحریری بیان میں نادر علی نے اپنا تعلق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے بیان کیا ہے تاہم یہ نہیں بتایا کہ وہ کیسے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ میں شامل ہوا۔

نادر علی جکھرانی نے اس تحریری بیان میں کہا ہے کہ دھماکے سے ایک روز قبل وہ، برار بروہی اور صفی اللہ بس میں بیٹھ کر سیہون پہنچے اور درگاہ کے قریب ایک کمرہ کرائے پر لیا، جس کے بعد ہم تینوں درگاہ پر گئے تاکہ یہ دیکھیں کہ اس کام کو کس طرح سرانجام دیا جائے۔

بیان کے مطابق 'ہم نے برار بروہی کو وہ جگہ دکھائی جہاں دھماکہ کرنا تھا، جس کے بعد ہم واپس کمرے میں آگئے۔'

رابطے کے لیے ملزمان نے تھریما نامی موبائل ایپ استعمال کی، سوئٹزر لینڈ کی سافٹ ویئر کمپنی کی تیار کردہ اس اپلیکشن کے ذریعے پیغامات، آڈیو ویڈیو کالز فریقین کے درمیان تک محدود اور خفیہ رہتی ہے۔

نادر علی کا کہنا ہے کہ انھیں ڈاکٹر غلام مصطفیٰ نے تھریما پر کال کرکے جہاز چوک پر آنے کا کہا ہے اور خودکش حملے کے لیے جیکٹ فراہم کی۔ 16 فروری کی شام 6 بجے ہم نے وہ جیکٹ سیٹ کرکے برار بروہی کو پہنائی۔

'میں، صفی اللہ اور برار تینوں درگاہ کے اندر گئے میں نے ڈوائس کو فعال کیا جس کے بعد میں اور صفی اللہ واپس روانہ ہوگئے، ہم جہاز چوک کے قریب پہنچے تھے کہ زور دار دھماکے کی آواز آئی جس پر ہم نے کہا کہ مشن پورا ہوگیا۔'

نادر جکھرانی کے بیان کے مطابق 'جہاز چوک پر ڈاکٹر غلام مصطفیٰ کار میں ان کا انتظار کر رہے تھے، ہم گاڑی میں سوار ہو گئے، ڈاکٹر غلام مصطفیٰ کار چلا رہا تھے، ہم سب صفی اللہ کے گاؤں روجھان مزاری پنجاب پہنچے۔ مشن مکمل ہونے پر ڈاکٹر غلام مصطفیٰ نے مجھے ایک موبائل سام سنگ ایس 6 اور 65 ہزار رپے نقد بطور انعام دیے تھے۔'

اس تحریری بیان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ داعش کا مرکز مستونگ ہے، جو اس سے قبل کالعدم لشکر جھنگوی کا بھی مرکز رہا ہے، نادر جکھرانی کے مطابق ڈاکٹر غلام مصطفیٰ مستونگ میں فوجی آپریشن میں مارا گیا۔ واضح رہے کہ رواں سال جون میں مستونگ میں آپریشن میں 12 شدت پسند ہلاک ہوگئے تھے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’سیہون شریف میں لعل شہباز قلندر کے مزار میں دھماکہ‘
لال شہباز قلندر کے مزار کے بعد ملزمان کراچی میں کسی درگاہ کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، نادر جکھرانی کا کہنا ہے کہ وہ مستونگ میں ہی تھے، جہاں اعجاز بنگلزئی نے کال کر کے کہا کہ ایک دوسری کارروائی کے لیے بارود اور اسلحہ کراچی پہنچانا ہے۔

'میں ایک بیگ میں بارود کا سامان، ایک پستول، دو دستی بم، ڈیٹونیٹر، ایک سرکٹ، رسیور اور ریموٹ کنٹرولر لیکر موٹرسائیکل پر روانہ ہوا، کراچی کے علاقے منگھو پیر درگاہ مائی گاڑھی کے قریب سے پولیس نے رات کو ساڑھے بارہ بجے کے قریب مجھے گرفتار کرلیا۔'

کاؤنٹر ٹیررازم محکمے نے سیہون دھماکے کا کیس فوجی عدالت میں چلانے کی سفارش کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دیگر ملزم فاروق بنگلزئی، اعجاز بنگلزئی، صفی اللہ اور تنویر افغانستان فرار ہوگئے ہیں

Tag : News Updates
0 Komentar untuk "Sehwan shrif bomb dhamakah report urdu story"

Back To Top