Powered by Blogger.

را‘ ایجنٹ بھارتی حسینہ ایٹمی راز چرانے پاکستانی کیسے پہنچی ،اٹامک انرجی انجینئر کو اپنے جال میں کیسا پھنسالیا

’را‘ ایجنٹ بھارتی حسینہ ایٹمی راز چرانے پاکستانی کیسے پہنچی ،اٹامک انرجی انجینئر کو اپنے جال میں کیسا پھنسالیا ، جان کر آپ بھی یقین نہیں ک
Worldinfotoday.com
Prudly News in information

بریگیڈئیر( ر)سید احمد ارشاد ترمذی جنکا تعلق آئی ایس آئی سے تھا وہ اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں کہ“شہر اقتدار میں دنیا کے متعدد سفارتخانوں نے اپنے عملے کے بچوں کی ابتدائی تعلیم و تربیت کی غرض سے ایمبیسی اسکول کھول رکھے ہیں، خاص طور پر ان ممالک نے جن کے عملے کی تعداد زیادہ ہے اور طالب علم بھی کافی تعداد میں ہیں، یہ سلسلہ دنیا کے تقریبا سبھی ممالک میں موجود ہے اور

بظاہر کسی حوالے سے بھی سفارتی آداب اور قواعد کے خلاف نہیں۔مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان اسکولوں میں محض درس و تدریس کا کام ہی نہیں ہوتا بلکہ ان اسکولوں کے عملے کے کئی ارکان کو تعلیمی سرگرمیوں کی آڑ میں جاسوسی کے کام پر بھی مامور کیا جاتا ہے۔ خفیہ ایجنٹ اسی طرح کے دوسرے اداروں مثلا ائیر لائنز کے دفاتر ، ہوٹلوں، لینگویج سینٹرز ، ایوان ہائے ثقافت و دوستی اور مراکز اطلاعات میں بھی تعینات کئے جاتے ہیں۔ ہمیں اپنی معمول کی چیکنگ کے دوران اسلام آباد میں قائم انڈین ایمبیسی اسکول کی ایک مس وینا کی سرگرمیاں کچھ مشکوک نظر آئیں۔ مسلسل نگرانی کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ اسکول کی تدریسی سرگرمیوں میں تو وہ کم حصہ لیتی ہے مگر اکثر اوقات شکار کی تلاش میں اسلام آباد کے چند گھروں میں دکھائی دیتی ہے ۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ مس وینا کا بھارتی سفارتخانے کے ڈیفنس اتاشی اور ”را” کے فرسٹ سیکریٹری سے مستقل رابطہ ہے۔ یہ دونوں پاکستان کے دفاعی اور ایٹمی راز معلوم کرنے کے درپے تھے، اور بھارتی ماتا ہری ان کی ہدایات پر کام کرتی تھی۔ مس وینا کی عمر 25یا 26 سال کے لگ بھگ تھی، مگر دیکھنے میں وہ 18-19 سال کی بے ضرر اور معصوم سی لڑکی لگتی تھی ۔ ستواں ناک، کتابی چہرہ، کھلتا ہوا رنگ، انتہائی متناسب جسم ، چال ڈھال میں ایک خاص قسم کا بانکپن، اور گفتگو کا مخصوص انداز، اس کے خطرناک ہتھیار تھے۔ اس کی خاموش نظریں بھی گہرائیوں تک سرایت کرتی محسوس ہوتی تھیں۔ اس کے چہرے پر ہمہ وقت ایک ہلکی سی مسکراہٹ تو رہتی لیکن اس کی نظروں میں ایک ایسی اداسی بھی دکھائی دیتی تھی جیسے صدیوں پرانا ایک محل اپنی لٹی ہوئی تابناکیوں ، خوشیوں اور روشنیوں کے لوٹ آنے کے کربناک انتظار میں ہو، جیسے وقت کے بے رحم ہاتھ لمحہ بہ لمحہ اے ریزہ ریزہ کر رہے ہوں یا جیسے اک تھکن سے چور چور مسافر جو اپنی منزل کا نام بھی بھول چکا ہو مگر پھر بھی ایک لامتناہی سفر پر ہو۔ مس وینا کا بدن اور روح بھی ایک دوسرے سے جدا جدا ، گم سم کسی انجانی منزل کی تلاش میں رہتے۔ مزید معلومات کے لئے ہم نے ایک پاکستانی ہندو لڑکے کو انڈین ایمبیسی اسکول میں داخلہ دلوایا۔ اس کی ماں نے ہماری ہدایات پر یہ ظاہر کیا کہ وہ اپنے بچے کی تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں بے حد متفکر ہے اور وہ ان سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ رہنا چاہتی ہے۔ وہ ہر دوسرے تیسرے روز اسکول جانے لگی اور یوں آہستہ آہستہ مس وینا کے ساتھ دوستی استوار کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ جلد ہی ان کی دوستی اسکول کی حدود سے نکل کر گھر اور مارکیٹ تک آگئی۔ وہ متواتر ایک دوسرے کو ملتیں ، شاپنگ اکٹھے کرتیں، سینما جاتیں اور اسلام آباد کے تفریحی مقامات پر اکٹھے گھومنا پھرنا بھی ان کا معمول بن گیا۔ وینا اسی محترمہ کو شکارکرکے اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہ رہی تھی اور یہ نہیں جانتی تھی کہ یہ معصوم شکار خود اس کا شکاری ہے۔ کچھ ہی عرصے بعد ہمارے اس شک کی تصدیق ہوگئی کہ مس وینا کا اسکول کی تدریسی سرگرمیوں میں کوئی کردار نہیں۔ وہ بھارتی جاسوس ہے اور ہمہ وقت اپنے آقاؤں کے حکم کی بجا آوری میں ”مشن” کے لئے تیار رہتی ہے ۔ اب ہماری نظریں اس کی آمد و رفت اور روزمرہ کی مصروفیات پر مذکور ہوگئیں اور ہم اس انتظار میں تھے کہ وینا کے پھینکے ہوئے کانٹے میں کونسی ”پاکستانی مچھلی ” پھنستی ہے۔ ایک روز بھارتی ایمبیسی کی جانب سے اسلام آباد کے ایک بڑے ہوٹل میں کمرہ بک کروایا گیا۔ یوں تو یہ ایک معمول کی بات تھی مگر سفارتخانے کے مہمانوں کی شناخت اور ان کے بارے میں جاننا ہمارے فرائض میں شامل تھا۔ ہوٹل سے ہمارے آدمی نے اطلاع دی کہ مس وینا بھارتی ڈیفنس اتاشی کی گاڑی میں سفارتخانے کے عملے کے ایک رکن مسٹر کھنہ کے ساتھ جو ”را” کی ٹیم کا ممبر بھی تھا، ہوٹل پہنچی ہے اور کھنہ ، وینا کو ہوٹل کے کمرے میں چھوڑ کر لابی میں بیٹھا شاید کسی مہمان کا منتظر ہے۔ ہم نے ائیرپورٹ سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس وقت کوئی جہاز نہیں آرہا اور نہ ہی بھارتی سفارتخانے کی کوئی کار ائیرپورٹ گئی ہے، اس سے ظاہر ہوا کہ ”مہمان” کوئی یہیں کا ہے ۔ ہم نے سیٹی بجادی اور ہماری ٹیم نے ضروری سازوسامان کے ساتھ اپ

0 Komentar untuk "را‘ ایجنٹ بھارتی حسینہ ایٹمی راز چرانے پاکستانی کیسے پہنچی ،اٹامک انرجی انجینئر کو اپنے جال میں کیسا پھنسالیا"

Back To Top