Powered by Blogger.

Latest kutub e illame 2017

اجتہاد
روشن خیال اسلام کا تصور اور جدید ترکی کا تجربہ
مصنف: محمد یوسف گورایہ

زیر نظر کتاب میں مصنف نے اس نظریاتی بحث کی تاریخ بیان کی ہے جو ترکی میں عہد ملوکیت کے فقہ کے علم برداروں اورجدید علوم سے بہرہ ور روشن خیال مسلمانوں کے درمیان دو سو سال تک جاری رہی۔ اٹھارویں صدی کے اوائل میں خلافت عثمانیہ روایت پرستی اور پسماندگی کا شکار ہو چکی تھی۔ روایت پرست علمانہ صرف نظامِ حکومت پر اثر انداز ہوتے تھے بلکہ عدلیہ پر بھی انہیں کنٹرول حاصل تھا۔ وہ علما اسلام کے ابدی اصولوں اورسماجی ارتقا کے تقاضوں سے منہ موڑ کر روایتی فقہ کی اندھی تقلید پر مصر رہے اور جدید سائنسی اور جمہوری دَور کے تقاضوں کے مطابق اجتہاد کی ہر کوشش کی بھرپور مخالفت کرتے رہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اگر روایت پرست ملاّ سچے اور حقیقی اجتہاد کی راہ میں رکاوٹیں نہ ڈالتے تو ترک حکمرانوں کی وسیع سلطنت اندرونی طور پر عدم استحکام کا شکار نہ ہوتی۔عین ممکن ہے کہ اگرترکی میں اجتہاد کا عمل جاری ہو جاتا تو مسلمانانِ عالم کے لیے سوچ اور ارتقا کی نئی راہیں کھل جاتیں اورمسلمان اس فکری اور معاشرتی بحران میں مبتلا نہ ہوتے۔اس کتاب میں عثمانی دَور کے بعد جدید جمہوریہ ترکیہ کے قیام کے حوالے سے دلچسپ تجزیہ پڑھنے کو ملتا ہے۔

Pages: 126
Price: 180
Cash on Delivery
Contact us:
Jumhoori Publications
2Aiwan e Tijarat Road, Lahore
042-36314140 / 0333-4463121

0 Komentar untuk "Latest kutub e illame 2017"

Back To Top