Powered by Blogger.

قیامت بے حد قریب آگئی کیونکہ۔۔۔‘ جدید تحقیق کے بعد اب تک کا سب سے خطرناک دعویٰ سامنے آگیا

 World Extra Information Today Daily Updates

نیویارک)مانیٹرنگ ڈیسک( سورج کے بغیر زمین پر زندگی کا وجود ممکن نہیں لیکن اب ایک جدید تحقیق میں اس کے متعلق ایسا ہولناک دعویٰ کر دیا گیا ہے کہ لگتا ہے قیامت قریب آ گئی ہے۔ ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے اپنی نئی تحقیق میں بتایا ہے کہسورج سے بالائے بنفشی شعاعیں انتہائی شدت کے ساتھ خارج ہونا شروع ہو گئی ہیں جو انسانوں اور زمین کے ماحول کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔یہ اتنی طاقت رکھتی ہیں کہ زمین سے سبزے کا نام و نشان مٹا دیں گی اور اسے بے آ ب و گیاہ چٹیل میدان بنا دیں گی تاہم بالائے بنفشی شعاعوں کی یہ شدت اصل خطرہ نہیں بلکہ اصل خطرے کا پیش خیمہ ہیں۔“’سائنسدانوں کو سورج میں سوراخ مل گیا جس کی وجہ سے اب زمین پر یہ انتہائی خطرناک کام ہونے والا ہے‘ تہلکہ خیز دعویٰ منظر عام پر، انتہائی پریشان کن وارننگ جاری کردی گئیسائنسدانوں نے اصل خطرے کے متعلق اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ ”بالائے بنفشی شعاعوں میں شدتآنے کا مطلب یہ ہے کہ سورج اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں داخل ہو رہا ہے اور کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے جس سے اتنا زوردار دھماکہ ہو گا کہ قیامت برپا ہو جائے گی۔“ رپورٹ کے مطابق اس تحقیق پر مبنی ویڈیو ’ہائیرٹروتھ‘ نامی یوٹیوب چینل پر پوسٹ کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ”وقت کے ساتھ آہستگی سے سورج کی حرارت میں اضافہ ہونا اس کی فطرت ہے لیکن حالیہ کچھ عرصے سے اس کے درجہ حرارت میں انتہائی تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی سطح سے خطرناک شعاعوں کا اخراج بہت زیادہ بڑھ گیا ہے جس سے اشارہ ملتا ہے کہ سورج کے خاتمے کی شروعات ہو چکی ہیں۔“ واضح رہے کہ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ سورج آج سے 5ارب سال بعد پھٹے گا۔ اس وقت یہ اپنی عمر کے درمیانی حصے میں موجود ہے۔ اکثر سائنسدانوں کا یہ بھی کہناہے کہ ’سورج کے پھٹنے سے بہت پہلے ہی زمین پر زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔‘
0 Komentar untuk "قیامت بے حد قریب آگئی کیونکہ۔۔۔‘ جدید تحقیق کے بعد اب تک کا سب سے خطرناک دعویٰ سامنے آگیا"

Back To Top