Powered by Blogger.

حضرت موسی علیہ السلام کوہ طور پر

وہی ہوتا ہے جو منظور ...... ایک دلچسپ تحریر
قسیم اختر
حضرت موسی علیہ السلام کوہ طور پر حسب معمول اللہ سے ہمکلام ہونے جا رہے تھے.ایک دن ان کا گذر ایک ایسے راستے سے ہوا جو ویران تھا.اپ نے دیکھا کہ ایک کھنڈر جیسے مکان میں تین لوگ ہیں. ایک بچہ.اسکی ماں اوراسکا باپ.حضرت موسی ان کے پاس گئے تو دیکھا کہ ان کے پاس نہ کھانے کو اناج ہے نہ پہننے کو کپڑا. محض ایک چادر پے جسے مرد پہنتا تو عورت بے لباس ہوتی اور عورت پہنتی تو مرد کو بے لباس رہنا پڑتا ہے..
حضرت موسی سے ان لوگوں نے کہا کہ اے موسی اپ تو اللہ کے برگزیدہ بنی ہیں اپ ہماری حالت زار کے بارے میں جان گئے ہیں اپ اللہ سے ہماری کچھ سفارش کر دیجئے ..
حضرت موسی نے اس خاندان کو تسلی دی اور کوہ طور کی جانب چل پڑے.
اللہ سے گفتگو کے درمیان حضرت موسی نے اس مفلوک الحال خاندان کا ذکر کیا
اللہ نے فرما یا اے موسی ہم نے انکے مقدر میں ایک ہی چادر لکھی ہے.جس میں ہماری حکمت پوشیدہ پے. لیکن تم سفارش کرتے ہو تو جائو انھیں خوشخبری سنادو کہ کل ان تینوں کی پہلی ایک ایک دعا فورا قبول ہوگی چاہے وہ جو مانگ لیں.
حضرت موسی علیہ السلام نے لوٹتے وقت یہ خوشخبری انھیں سنادی.
اگلی صبح شوہر نے بیوی سے کہا مجھے چادر دے دو میں ندی پر جا کر غسل کر کے دعا مانگتا ہوں اور ابھی بادشاہ بن کر اتاہوں.وہ چلا گیا.
ادھر بیوی نے سوچا کہ شوہر جب بادشاہ بن کر آئےگا تو مجھ غریب کو کیا خاطر میں لائے گا.اسلئے اس نے دعا کی کہ یا اللہ مجھے زرق برق لباس سمیت حسین و جمیل بنا دے.اللہ کا وعدہ تھا. ادھر اس کے منہ سے یہ دعا نکلی اور دوسرے لمحے وہ غربت زدہ نحیف و نـزار عورت ایک حسین و جمیل دوشیزہ میں تبدیل ہو گئی.اعلی قسم کے لباس بھی تن پر آگئے. وہ اب شوہر کے انتظارمیں کھنڈر کے باہر چہل قدمی کرنے لگی.اسی وقت شہزادہ وقت جو شکار کے لئے نکلا تھا ادھر سے گذرا اور ایک انتہائی حسین و جمیل دوشیزہ کو دیکھ کر اس پر فدا ہو گیا ..وہ پاس گیا اور اس نے اپنے ساتھ گھوڑے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا. عورت یہ سمجھی کہ وہ شہزادہ اس کا شوہر ہے جو دعا کے بعد تبدیل ہوگیا ہے اور بادشاہ بن کر لوٹا ہے.وہ شوہر کے لاو لشکر سے مرعوب اس کے پیچھےخاموشی کے ساتھ گھوڑے پر بیٹھ گئی.
ادھر جب شوہر نےدریا پر غسل سے فارغ ہوکر بادشاہت کی دعا مانگنی چاہے تو اسے خیال ایا کہ اس نے بیوی سے تو پوچھا پی نہیں کہ وہ کہاں کی ملکہ بنے گی .وہ جہاں کی ملکہ بننا پسند کرےگی میں بھی وہیں کی بادشاہت مانگونگا. چلو پہلے بیوی سے پوچھ لیتے ہیں.
لیکن جب وہ کھنڈر نما گھر میں لوٹا تو بیوی کو غائب پایا. حیران ہو کر بیٹے سے پوچھا کہ ماں کہاں پے تو بیٹے نے جواب دیا. ماں تو بہت خوبصورت ہو گئی تھی. اچھے کپڑے بھی پہنے تھے. ایک ادمی کے ساتھ گھوڑے پر بیٹھ کر چلی گئی.
شوہر کو بے تحاشا غصہ ایا کہ غربت میں ساتھ ساتھ تھے اور حالت بدلتے ہی نیت بدل گئی. وہ سمجھ گیا تھا کہ اسکی بیوی نے دعا کر کے اپنی حالت بدل لی تھی. اور بے وفائی کر کے چلی گئی. اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا یا اللہ اسے سور بنا دے.
ادھر شوہر کی زبان سے نکلا اور ادھر گھوڑے پر بیٹھی بیٹھی دوشیزہ خنزیر میں تبدیل ہو گئی ..شہزادے کے حواریوں نے شور مچایا ..شہزادے یہ کوئی بلا ہے .اب اصلی صورت میں آگئی ہے..شہزادے نے پلٹ کر پیچھے دیکھا اور خوفزدہ ہو کر اسے گھوڑے سے نیچے گرا دیا.اور سارے سرپٹ بھاگ نکلے.
گھوڑے سے گری عورت سمجھ گئی کہ کچھ بڑی گڑ بڑ ہوگئی ہے. یہ اسکا شوہر نہیں ہے. وہ کسی طرح دوڑتی لڑھکتی واپس اپنے کھنڈر نما گھر پہنچی تو دیکھا کہ اس کا شوہر اپنی اصلی حالت میں غصے سے ٹہل رہا ہے. مرد بھی سمجھ گیا کہ یہ اسکی بیوی ہے اور اسکی بددعا نے اسکو خنزیر میں تبدیل کر دیا ہے.اسنے بیوی کو پیٹنا شروع کردیا. وہ چیخنے چلانے لگی.
بیٹا جو یہ تمام منظر دیکھ رہا تھا اس سے ماں کا چیخنا برداشت نہ ہوا اس کے منہ سے نکلا یا اللہ میری ماں کو اچھا کردے .بچے کے منہ سے یہ جملہ ادا ہوتے ہی اس کی ماں اپنی اصلی حالت میں لوٹ آئی.
تینوں کی دعا ختم ہو گئی اور ان کے پاس اب بھی ایک چادر کے سوا کچھ نہ تھا.
★★ وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے ★★
(یہ واقعہ میں نے برسوں پہلےتاریخ کی ایک کتاب میں پڑھا تھا )
★★

0 Komentar untuk "حضرت موسی علیہ السلام کوہ طور پر"

Back To Top