Powered by Blogger.

Ustaad To Ustaad hi hota hai

استاد نے کلاس میں داخل ہوتے ہی اپنے سب اسٹوڈنٹس سے پوچھا
آپ سب کی نظروں میں کونسی چیز انسان کو خوبصورت بناتی ہے؟
سب شاگردوں نے مختلف جواب دیئے
کسی نے کہا : خوبصورت آنکھیں
کسی نے کہا : خوبصورت چہرہ
کسی نے کہا : بڑا قد
کسی نے کہا : سفید رنگ
سب کے جواب سن کے استاد نے بیگ سے دو گلاس نکالے
ایک شیشے کا نہایت خوبصورت اور نفیس گلاس
ایک مٹی کا گلاس
استاد نے دونوں گلاسوں میں کوئی الگ الگ چیزیں ڈال دی اور کہا
میں نے شیشے کے گلاس میں زہر ڈالا ہے
اور مٹی کے گلاس پینے کا پانی
آپ کونسا گلاس پینا چاہتے ہیں؟
سب شاگردوں نے یک زبان ہو کر کہا:مٹی کا گلاس
استاد نے کہا
جب آپکو ان گلاسوں کی اندر کی حقیقت معلوم ہوئی تو پھر آپکی نظروں میں ان کی ظاہری خوبصورتی کی کوئی اہمیت نہیں رہی
اسی طرح
ہمیں بھی انسان کی اندر سے حقیقت معلوم کرنی چاہیئے
کیونکہ بہت سے خوبصورت لباس ایسے ہوتے ہیں جن کے اندر انسان نہیں ہوتے
بہت سے خوبصورت چہرے اور جسم ایسے ہوتے ہیں جن کے اندر دل حیوانات سے بھی بدتر ہوتے ہیں.

0 Komentar untuk "Ustaad To Ustaad hi hota hai"

Back To Top