Powered by Blogger.

Tassawur e sheakh kuon kiya jata hai

سوال: تصور شیخ کیوں کیا جاتا ہے؟
جواب: سالک تصور شیخ کرتا ہے تو اس کی اپنی تمام کمزوریاں اس کے سامنے ہوتی ہیں۔ وہ ان تمام خامیوں کو شیخ کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ شیخ مرید پر نظر کرم کرتا ہے۔ اپنی مجلا اور مصفا شخصیت کا عکس مرید کے دل میں منتقل کرتا ہے۔ باطنی طور پر رگڑ رگڑ کر اتنا صاف کر دیتا ہے کہ مرید کا شعور کمسن بچے کی طرح ہو جاتا ہے۔ پھر شیخ اپنے سینے سے اپنے علوم منتقل کرنا شروع کر دیتا ہے۔ تصور شیخ اس لئے کیا جاتا ہے تا کہ شیخ کے علوم مرید میں منتقل ہو جائیں۔
آدمی آنکھیں بند کر کے اندھیرے میں اپنے استاد یا پیرو مرشد کے تصور میں بیٹھ جاتا ہے۔ تصور شیخ کا صحیح مفہوم انخلاء ذہنی ہے۔ مرید اپنے شیخ کو ذہن کا مرکز بنا کر اس کے تصور میں ڈوب جانے کی مشق کرتا ہے۔ یہاں یہ بات سمجھ لینا بہت ضروری ہے کہ تصور شیخ کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ شیخ کی تصویر بنائی جائے یا شیخ کی شکل وصورت کے بارے میں سوچا جائے کہ شیخ کی داڑھی ایسی ہے یا ان کا لباس ایسا ہوتا ہے یا اس طرح کی باتیں سوچی جائیں۔ دراصل شیخ کو ذہن کا مرکز بنا کر اس میں گم ہو جانا یا کھو جانا ہی صحیح طریقہ ہے۔
اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ تصور شیخ کیوں کریں اللہ تعالیٰ کا تصور کیوں نہ کریں تا کہ منزل جلد مل جائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے آدم کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا۔ آدم کو خلیفہ بنانے سے پہلے نیابت اور خلافت کے تمام علوم سیکھا کر دنیا میں بھیجا گیا تھا تا کہ وہ اللہ کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق دنیا والوں میں اللہ تعالیٰ کے علوم کو پھیلائیں۔ آدم کے بعد جتنے بھی پیغمبر آئے اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لئے یہی کہا کہ وہ سب بشر تھے۔
سورۂ الانبیاء کی آٹھویں آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’اور نہیں بنائے ہم نے انبیاء کے ایسے جسم جو کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ ہی وہ (اس دنیا میں) ہمیشہ رہنے والے تھے۔‘‘
کی رہنمائی اور ہدایت کے لئے انسانوں کو پیغمبر اور خلیفہ بنا کر بھیجا گیا ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر چلنے کی بجائے نفس کے غلام بن جاتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے دور ہو جاتے ہیں اس لئے وہ علوم انہیں منتقل نہیں ہوتے جو اسماء الٰہیہ کے علوم ہیں چونکہ اللہ تعالیٰ کا ورثہ اسماء الٰہیہ کے علوم بندوں تک پہنچانے کاکام اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے اور نائب آدم ہے اور آدم انسان ہے، بشر ہے اس کے اندر انسانوں والی تمام باتیں موجود ہیں اور وہ بشری تقاضے رکھتا ہے ۔ اب جب کہ نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے پیغمبر آنے بند ہو گئے ہیں تو ہدایت کا کام رسول اللہﷺ کی امت کے اولیاء اللہ نے انجام دینا شروع کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تصور شیخ کی تلقین کی جاتی ہے۔

0 Komentar untuk "Tassawur e sheakh kuon kiya jata hai"

Back To Top