Powered by Blogger.

Syed Zishan Hyder Urdu columns 2017 چین بمقابلہ امریک

Syed Zishan Hyder Urdu columns 2017
چین بمقابلہ امریکہ

اپریل کے شروع میں شام کے شہر ادلب میں کیمیائی حملہ ہوا۔جس کے بعد پوری دنیا میں واویلا مچ گیا۔2013میں بھی شام میں کیمیائی ہتھیاروں کاحملہ ہواتھا۔2013حملے کاالزام بھی بشارالاسد حکومت پرلگائے گئے۔جس کے بعدایک بین الاقوامی معاہدے کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں شامی حکومت کے تمام کیمیائی ہتھیار تلف کردئیے گئے ۔اس سارے معاملے کی چھان بین اقوام متحدہ نے کی اور اب اپریل 2017میں شام میں حملے رپورٹ ہوئے ۔امریکی صدرنے بین الاقوامی کمیونٹی اورکانگریس کو اعتماد میں لیے بغیر 59میزائل شام میں داغ دیے ۔اس حملے کے محرکات کو بین الاقوامی حالات میں تبدیلیوں کے تناظر میں دیکھنا انتہائی ضروری ہے ۔اہم محرکات میں سے امریکہ کی چین کے ساتھ سرد جنگ ،شمالی کوریاکے میزائل تجربے اس پر امریکہ کی دھمکیاں اورچین شمالی کوریاکی دوستی شامل ہیں۔اس کے علاوہ اورمحرکات میں امریکہ کی چین کے ساتھ معاشی سردجنگ ہے اورچین کے جنوب میں پائے جانے والے جزیرے پر اور تائیوان کے بارے میں امریکہ کامخالف موقف ہے ۔ شمالی کوریاکی بڑھتی ہوئی میزائل ٹیکنالوجی نے امریکہ کوپریشان کررکھاہے۔اس کے علاوہ ٹرمپ انتظامیہ پراندرونِ ملک عوامی وسیاسی دباؤ اور خفیہ ایجنسیوں کاٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تنگ ہوتاہواگھیراہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی انتخابی مہم میں سب سے پہلے معیشت کودرست کرنے کی بات کی ۔جس سے یہ تاثر ملا کہ ٹرمپ کاروائتی مخالف اب روس نہیں بلکہ ترقی کرتی چین کی معیشت ہے۔ٹرمپ نے ساری توجہ امریکہ کی معیشت ٹھیک کرنے اورتجارت میں موجود عدم توازن کودرست کرنے پررکھی ۔جیسے ہی ٹرمپ نے دفتر سنبھالاوہ چین کے خلاف سامنے آگیااور چین کی ون چائنہ پالیسی کے بارے سخت بیان دے کر چین کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ۔جبکہ چین نے روائتی ٹھنڈی مزاج محدود جوابی پالیسی اپنائی ۔جس سے معاملات زیادہ نہیں بگڑے ۔اس وقت دیکھا جائے توامریکہ کوکسی بھی ملک سے فوجی حملے کے خطرات موجودنہیں ہیں لیکن امریکہ کومعاشی میدان میں سب سے زیادہ خطرات چین سے ہیں۔اس وقت دنیاکے دانشور اس بات پر متفق ہیں کہ جو ملک معاشی طورپر طاقتور ہوگا وہی سپرپاورکہلائے گا ۔اس تناظر میں ٹرمپ نے تجارت بارے پالیسیاں تبدیل کرنے کاعندیہ بھی دیا۔امریکہ نے چین کے تائیوان سے تعلقات بارے بڑے سخت بیان دیے ۔اس تائیوان تنازعے کو سمجھنے کے لیے تھوڑا تاریخ میں جاناہوگا۔

تائیوان میں ری پبلکن چائناکی حکومت ہے۔جبکہ چین میں پیپلزری پبلکن چائنہ کی حکومت ہے ۔چائنہ تائیوان پر مکمل کنٹرول نہ تو کم ازکم انتہائی درجہ کا تسلط رکھنے کا خواہاں ہے ۔ امریکہ تائیوان چائنہ مخالف سیاسی دھڑوں کی حمایت کررہاہے ۔امریکہ نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ وہ ون چائنہ کی تائیوان پالیسی کے بارے اپنا موقف یکسرتبدیل کرسکتاہے۔اس کامقصد چین کے اوپر دباؤ ڈالنا ہے اور چین کواپنے جنوب میں سمندر میں مصنوعی جزیرے بنانے سے روکنابھی ہے ۔یہ جزیرے چین کے جنوب کی طرف سمندر میں پائے جاتے ہیں ۔ان پر فلپائن ،ملائیشیا، ویتنام اور جاپان کا دعوی ٰ ہے ۔فلپائن نے بین الاقوامی عدالت میں دعویٰ دائرکیا جس کے بعد فیصلہ چین کیخلاف آیا۔اس فیصلے کے باوجود چین جزیرے بنانے میں مصروف ہے ۔اس کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ سمندر میں تیل گیس کے ذخائر اورآبی حیات موجود ہیں۔جس سے اربوں ڈالرحاصل ہوسکتے ہیں۔امریکہ بھی اس خطے میں تجارت کرتاہے ۔اس کے بھی مفاد جڑے ہوئے ہیں ۔امریکہ نے پچھلے دنوں بیان دیاکہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں کسی کو قبضہ جمانے نہیں دے گا۔چین ان جزیروں پراپنی فوجی چھاؤنیاں بنارہاہے ۔جلدہی وہاں پر اپنے میزائل نصب کردے گا۔جس سے اس خطے میں اس کی اجارہ داری قائم ہوجائے گی ۔یہ صورتحال امریکہ کے لیے قابل قبول نہیں ۔دوسری وجہ تنازع چین اورشمالی کوریاکی دوستی ہے ۔

شمالی کوریا کاواحد اتحادی چین ہے ۔شمالی کوریا آئے روز ایٹمی تجربات کررہاہے اوراس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی میزائل ٹیکنالوجی کوبھی بھرپورتقویت دے رہاہے۔اس کا دعویٰ ہے کہ جلدامریکہ اس کی رینج میں ہوگا۔یہ صورتحال امریکہ کوقابل قبول نہیں ۔چین اور امریکہ کے اس تناظر میں شام پر امریکی حملوں کوسمجھنا آسان ہے۔سوال یہ ہے کہ ان حملوں کاچین اورامریکہ کے درمیان تناؤ سے کیا تعلق ہے ؟ اپریل کے پہلے ہفتے میں چینی صدر زی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات طے تھی۔بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کی رائے تھی کہ ٹرمپ چاروں اطراف سے گھراہواہے ۔امریکی میڈیا کی مخالفت ، ہیلتھ کئیر بل میں ناکامی اور اسٹیبلشمنٹ کیخلاف مہم جوئی کی وجہ سے ٹرمپ کمزور ہوتادکھائی دیتاہے ۔جبکہ چینی صدر کافی مستحکم پوزیشن میں موجود ہیں۔یہ صورتحال ٹرمپ کے لیے قابل قبول نہیں تھی ۔اس دوران بات چیت میں چین کا پلڑابھاری رہاتھا۔اس لیے صورتحال کو متوازن بنانے کے لیے امریکہ نے شام پر میزا

0 Komentar untuk "Syed Zishan Hyder Urdu columns 2017 چین بمقابلہ امریک"

Back To Top