Powered by Blogger.

Sab se badda rupaya 2017

Syed Zishan Hyder
سب سے بڑا روپیہ
(سیدذیشان حیدر)

انسان کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو وہاں پیسے کی اہمیت واضح طور پردکھائی دیتی ہے ۔پیسے کاانسان ،رشتوں ،معاشروں ،ملکوں غرض ہرشعبہ زندگی میں کلیدی کردارہے۔پیسے کے ہر جگہ بڑے اہم اثرات مرتب ہوتے ہیں۔سب سے بڑی نہ سہی تو بڑی حقیقتوں میں سے ایک حقیقت پیسہ یامعیشت بھی ہے ۔معیشت کی حقیقت ،اس کی طاقت اور اہمیت کو اگر ہم تاریخ اور عصر حاضر دونوں میں جھانک کر دیکھیں تو حقائق کھل کر ہمارے سامنے آجاتے ہیں۔معیشت کی اہمیت واثرات انفرادی ،خاندان ،رشتہ دار ،معاشرہ ،ریاست اور ملک غرض ہر جگہ واضح طورپر دیکھا جاسکتاہے۔

انسانی تاریخ کے اندر جتنی جنگیں اور لڑائیاں ہوئیں ان میں اکثریت کے پیچھے وجہ پیسے کی حوس ہی رہی ہے۔تاریخ میں شاید کوئی شاذونادر ہی ایسی جنگ یالڑائی ہوئی ہو جس کے پیچھے مقصد پیسہ نہ ہو ۔بہت کم ہی کوئی جنگ یالڑائی کسی نظریہ کی بنیاد پر لڑی گئی ہو ۔درحقیقت وہ نظریات بھی حقائق سے چشم پوشی کاذریعہ ہوتے ہیں ۔درحقیقت ان نظریات کے پیچھے کسی مال ودولت کابنیادی اوراہم کردار کہیں نہ کہیں موجود ہوتاہے۔خودسوچیے کہ جنگ میں جب فاتح کسی شکست خوردہ پارٹی کی زمین ،مال اوردولت پر قبضہ کرلیتاہے تواس سے واضح طورپر ثابت ہوجاتاہے کہ جنگ نظریے کی بجائے مال ودولت کی ہی تھی۔تاریخ میں جھانک کر یا دورحاضر کے اندر دیکھ لیں گلوبلائزیشن کی سطح سے لے کر انسان کی زندگی تک دانستہ اور غیر دانستہ طورپر شعوری اور لاشعوری طور پر پیسے کے اثرات کسی نہ کسی صورت کہیں نہ کہیں ضرور موجودہوتے ہیں۔

ہرانسان کواپنی بہترین صحت اورروحانی نشوونماکے لیے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے ۔اس لیے جس شخص کے پاس پیسہ وافر مقدار میں ہوتاہے وہ اپنی صحت کاخیال اور اپنے من کی آبیاری زیادہ بہترطریقے سے کرسکتاہے ۔مثال کے طور پر مالدار شخص جس کے پاس کافی پیسہ ہوتو وہ اپنے لیے اچھی اورمعیاری خوراک کابندوبست کرسکے گااور اگر اس مالدار شخص کوکوئی بیماری لاحق ہوجائے گی تووہ اس کااچھا اوربہترین معالج سے علاج کرائے گا۔اسی طرح ذہنی عارضہ لاحق ہوجائے تو اس کا نفسیاتی علاج کرانے کے لیے بھی پیسہ درکار ہوتاہے۔اس طرح اگر اس کے پاس پیسہ ہو تو وہ اپنی تعلیم کے لیے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بڑے ذہنوں سے علم حاصل کرے گا۔جو اس کی شخصیت کو چارچاند لگادیں گے ۔اس تعلیم کی وجہ سے اس شخص کو معاشرے میں عزت ملے گی اور دلی تسکین بھی ۔

رشتوں میں بھی آپ کو پیسے کی اہمیت اوراثرات ملیں گے ۔اس تجزیے سے پہلے یہ جانناضروری ہے کہ انسان میں شعوری اورغیر شعوری دونوں سطح پر عمل اور ردعمل ہوتاہے۔آپ کی دوستی یاری کے اندر بھی مال متاع موجودہوتاہے ۔اب دوستی کے رشتے کو دیکھ لیں ۔ہرانسان اپنے سے مالدار شخص سے دوستی کرناچاہے گا۔شعوری اور غیرشعوری طورپر دولت مندشخص اپنے اندر کشش ضرور رکھتاہے ۔دوست کے علاوہ آپ میاں بیوی کے رشتے میں دیکھ لیں ۔دونوں میں ہرایک کی خواہش ہوگی کہ اس کاشریک حیات مالی طورپر مستحکم ہو۔لڑکالڑکی کی پسندکی شادی ہو یاپھروالدین کی مرضی سے شادی ہو۔مالی حالت کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔والدین اپنے بیٹے یابیٹی کے سسرال والوں کومالی حیثیت برابر یاان سے بہتر ہو اس کوترجیح دیں گے ۔ایک غلط العام مفروضہ ہے کہ رشتے بے لوث ہوتے ہیں۔ایک ہی خاندان کے اندرآپ دیکھ لیں ۔مثلاََ اگروہاں دوبھائی کماتے ہوں تواس شخص کے ساتھ خاندان کے دیگر افراد کارویہ مختلف ہوگااور جوکم کماتاہے اس بھائی سے رویہ مختلف ہوگا۔یہ تقریباََ ہر گھر کی کہانی ہے ۔اسی طرح آج کے زمانے کی بات کریں تو آج کے زمانے کے اندرمیاں بیوی دونوں ہی کماتے ہیں۔ان دونوں میں سے اس کی اہمیت زیادہ ہوگی جوزیادہ کماتاہوگا۔پہلے زمانے میں کہاجاتاتھاکہ بیویاں فرمانبردارہوتی تھیں ۔دراصل ان کاتمام ترانحصار شوہر کی مال ودولت پرہوتاہے لیکن آج زمانہ بدل چکاہے خواتین مردوں کے برابر کماتی ہیں بلکہ اس سے زیادہ بھی کمارہی ہیں۔اس صورتحال سے فرمانبرداری میں بھی کمی آتی جارہی ہے ۔انسان کی مالی حیثیت اس کی باڈی لینگوئج ،گفتگو کاانداز،روزمرہ کی دلچسپیاں اوررشتوں میں واضح جھلک جاتی ہے۔اس کوبھی سمجھنے کے لیے ایک تربیت یافتہ ذہن کی ضرورت ہوتی ہے ۔

انسان کے ساتھ ایک اور المیہ یہ بھی ہے کہ وہ جذبات اور مصروفیات کی وجہ سے زندگی میں پیسے کے حقائق سے دور ہوجاتاہے۔یہ نفسانفسی اورمعاشرے کی من گھڑت رام کہانیاں اس کو بنیادی حقائق سے دورکردیتی ہے۔جوانسان پیسے کی اہمیت اور اس کے انسانی رویوں پر اثرات کوسمجھ لیتاہے اور اس کابھرپور استعمال کرتاہے۔اس کے لیے زندگی میں کامیابی کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔اس کے برعکس دوسری طرف جو لوگ نظریات کواہمیت دیتے ہیں وہ ان حقائق کوجانچنے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔وہ بس کامیابی کا خواب ہی ریکھتے رہ جاتے ہیں ۔خاندان رشتہ داروں کے دائرے سے باہر نکل

Tag : urdu columns
0 Komentar untuk "Sab se badda rupaya 2017"

Back To Top