Powered by Blogger.

Qasoor kis ka 2017

Syed Zishan Hyder
قصور کس کا
(سیدذیشان حیدر)

چند روز قبل سابق سفیر حسین حقانی کی جانب سے ویزہ جاری کرنے کے حوالے سے ایک تنازعہ منظر عام پر آیا۔حسین حقانی نے کہاکہ انہوں نے گیلانی دورمیں امریکی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کوپاکستان میں ویزے جاری کیے۔اس بیان کے جواب میں سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے پریس کانفرنس بھی کی ۔سوال یہ پیداہوتاہے کہ دنیا بھر کے اندرجو سفارتکار ہوتے ہیں ان کے کیا اختیارات اورفرائض ہوتے ہیں ؟دنیا کے ہرادارے میں ہرشخص کے فرائض اوراختیارات ہوتے ہیں ۔قارئین جتناکوئی ملک طاقتورہوتاہے اس کاسفیر اورسفارتخانہ اتنا ہی مضبوط اوربااثرہوتاہے۔کسی بھی ملک کی اہمیت کااندازہ دوباتوں سے لگایاجاسکتاہے۔اول اس ملک کی معاشی حالت کیسی ہے ؟دوسرا اس ملک کادفاع کتنامضبوط ہے ؟مثلاََ جب امریکہ کاکوئی سفیر پاکستان میں مدعو ہوتاہے تو اس کاپروٹوکول دیکھ لیں ۔اس صورتحال کاموازنہ آپ کسی اور ملک جس کی معیشت پاکستان سے بھی کمزورہواس سفارتخانے کے ساتھ برتاؤ دیکھ لیں ۔دراصل سفارتکار ملک کے عکا س اورنمائندے ہوتے ہیں ۔وہ اس ملک کی ثقافت سے بھی آزاد نہیں ہوتے ۔اس بات سے قطع نظر امریکی خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کوویزے امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے کہنے پر حسین حقانی نے جاری کیے یانہیں ؟ کیاطریقہ کاریا ضابطے کے مطابق درست تھا یانہیں؟ اس بحث میں پڑنے کی بجائے اس بات کاتجزیہ کرتے ہیں کہ جو امریکی خفیہ ایجنسی کے اہلکار پاکستان آئے ان کے ہمارے ملک پر کیا اثرات مرتب ہوئے ؟اس سوال کاتجزیہ کرناضروری ہے ۔مگر اس سے پہلے اس وقت کے حالات پر ایک نظر ڈالنابھی ضروری ہے ۔

2008اور2009میں طالبان وزیرستان اور سوات میں پھیل رہے تھے۔اس سے پہلے مشرف کانوسالہ دور امریکہ پرورتھا۔اس کے بعد پاکستانی طالبان نے پنجے گاڑھے ۔سوات طالبان کمانڈرملافضل اللہ کے قبضے میں آچکاتھا۔اس وقت بے بس حکومت نے طالبان سے معاہدہ بھی کیا۔بہرحال 2009میں شدت پسندوں اورپاکستانی طالبان کیخلاف آپریشن راہ نجات اور آپریشن راہ راست شروع ہوا۔ جس نے طالبان کے بڑھتے اثرورسوخ کوروکا۔اس وقت کچھ دانشوروں کاکہناتھا کہ طالبان جلداسلام آباد پر بھی قبضہ کرلیں گے ۔

سوچنے کی بات ہے کہ اس وقت امریکہ نے اس وقت اپنے حساس ادارے کے اہلکاروں کو کیوں بھیجا؟دراصل امریکہ کو اسامہ کی تلاش تھی۔ان اہلکاروں نے اسامہ بن لادن کوہلاک کرکے اپنا مقصدپوراکرلیا۔امریکی خفیہ اہلکاروں کا پاکستان میں آکر اسامہ بن لادن کوتلاش کرلینا درست تھا یا نہیں ؟ کسی بھی ملک کی خفیہ ایجنسی کے اہلکاردوسرے ملک میں بغیراجازت جاکر کاروائی کرنایقیناًیہ عمل قابل قبول نہیں مگر ان مخصوص کاروائیوں کے سلسلے کاپاکستان کے اوپرکیااثرات مرتب ہوئے؟نائن الیون کے بعد امریکہ نے افغانستان کو میدان جنگ بنادیا۔ اسامہ کا طالبان کی پرورش اورافغانستان میں قابض ہونے میں بڑااہم کردارتھا۔اس کابویابیج افغانستان اب تک کاٹ رہاہے ۔امریکہ کے افغانستان پر حملہ کرنے کے بعد اسامہ بن لادن کاپوری دنیا کو چھوڑ کر پاکستان میں پناہ لینے سے کیا یہ ثابت نہیں ہوتاکہ اسامہ کے پاکستان کے اندر اتنے ہی گہرے تعلقات تھے جتنے اس کے افغانستان کے طالبا ن سے تھے ؟کیاپاکستان اس وقت بلکہ آج بھی طالبان اور دیگر مذہبی جنونیوں کی شکل میں اسامہ کے سہولت کاروں سے سے نبر دآزمانہیں؟یہکیسے ممکن ہے کہ اسامہ ان پاکستان دشمن عناصر کی معاونت کے بغیر پاکستان میں رہاہو؟اس سے تاثر ملتاہے کہ پاکستان میں جو مذہبی جنونیوں نے فساد پھیلایاجوتاحال جاری ہے اس میں اسامہ نے ضرورحصہ ڈالاتھا۔یہ وہی گٹھ جوڑ ہے جس نے پاکستان کودنیا بھر میں رسواکیا اوراس کی معیشت کوتباہ کیا۔اس دہشت گردی کی جنگ میں ہمارے تقریباََ ساٹھ ہزار فوجی اورسویلین لوگ شہید ہوئے ۔ایک نقطہ نظرسے دیکھاجائے تو پاکستان کی سالمیت کے لیے اسامہ کاخاتمہ مثبت عمل تھا۔کیاامریکی اہلکاروں کے ہاتھ سے اسامہ کاماراجانا درست تھا یانہیں ؟ کیااس امریکی کاروائی میں قانون کی پاسداری کی گئی ؟ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ امریکہ کے پاس پاکستان کے اندر آکر کاروائی کرنے کاکوئی جواز نہ تھا ۔لیکن کیا پاکستان کی ویزہ جاری کرنے والی مجاز اتھارٹی کے پاس کوئی طریقہ کار تھاجس سے پتہ لگایاجاسکے کہ پاکستان آنے والے امریکی خفیہ ایجنسی کے اہلکار پاکستان دشمن اقدام کرنے جارہے ہیں؟کیایہ ہماری سیکیورٹی ایجنسی کی ذمہ داری نہیں کہ پاکستان آنے والے غیر ملکیوں کی نقل وحرکت پرنظررکھے؟اس بات میں بھی کوئی دورائے نہیں کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں دنیا بھر کی صفحہ اول کی خفیہ ایجنسیوں میں شمارکی جاتی ہیں۔اگرامریکی ملک میں کسی مکروہ سرگرمی میں ملوث تھے تو ان کے خلاف کیا کاروائی کی گئی ؟دوسری طرف سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا ہماری خفیہ ایجنسی کے اہلکارتقریباََہر غیر ملکی سفارتخانے سے جڑے نہیں ہوتے؟ کیاان سفارتکا

Tag : urdu colamns
0 Komentar untuk "Qasoor kis ka 2017"

Back To Top