Powered by Blogger.

Murakba kiya hai murakba ke maani kiya hain

سوال: مراقبہ کیا ہے؟
جواب: مراقبہ کے معنی ہیں کہ تمام طرف سے ذہن ہٹا کر ایک نقطہ پر اپنی پوری توجہ مرکوز کرنا اور یہ مرکزیت اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس ہے۔ جب تک کوئی بندہ ذہنی مرکزیت کے قانون سے واقف نہیں ہوتا وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ربط قائم نہیں کر سکتا۔ ربط اور تعلق قائم کرنے کے لئے مراقبہ ضروری ہے۔ مراقبہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وہ پہلی سنت ہے جس کے نتیجے میں حضرت جبرئیلؑ سے رسول اللہﷺ کی گفتگو ہوئی اور ہادی برحق سرور کائنات سرکار دو عالم سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر قرآن نازل ہوا۔
سوال: مراقبہ کیسے کیا جائے؟
جواب: حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہر امتی یہ بات جانتا ہے کہ ہمارے پیارے نبیﷺ نے غار حرا میں طویل عرصے تک عبادت و ریاضت کی ہے۔ دنیاوی معاملات، بیوی بچوں کے مسائل، دوست احباب کے تعلقات سے عارضی طور پر رشتہ منقطع کر کے یکسوئی کے ساتھ کسی گوشے میں بیٹھ کر اللہ کی طرف متوجہ ہونا مراقبہ ہے۔
صاحب مراقبہ کے لئے ضروری ہے کہ جس جگہ مراقبہ کیا جائے وہاں شور و شغب نہ ہو، اس جگہ اندھیرا ہو۔ جتنی دیر اس جگہ گوشے میں بیٹھا جائے اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ ذہن کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رکھے۔ بند آنکھوں سے یہ تصور کرے کہ مجھے اللہ دیکھ رہا ہے۔
پرہیز و احتیاط:
۱۔ مٹھاس کم سے کم استعمال کی جائے۔
۲۔ کوشش کی جائے کہ کسی قسم کا نشہ استعمال نہ کیا جائے اور اگر عادت ہے تو کم سے کم استعمال میں آئے۔
۳۔ کھانا آدھا پیٹ کھایا جائے۔
۴۔ ضرورت کے مطابق نیند پوری کی جائے اور زیادہ دیر بیدار رہے۔
۵۔ بولنے میں احتیاط اختیار کی جائے، صرف ضرورت کے مطابق بولا جائے۔
۶۔ عیب جوئی اور غیبت کو اپنے قریب نہ آنے دے۔
۷۔ جھوٹ کو اپنی زندگی سے یکسر خارج کر دے۔
۸۔ مراقبہ کے وقت کانوں میں روئی رکھے۔
۹۔ مراقبہ ایسی نشست سے کرے جس میں آرام ملے لیکن یہ ضروری ہے کہ کمر سیدھی رہے اس طرح سیدھی رہے کہ ریڑھ کی ہڈی میں تناؤ واقع نہ ہو۔
۱۰۔ مراقبہ کرنے سے پہلے ناک کے دونوں نتھنوں سے آہستہ آہستہ سانس لیا جائے اور سینہ میں روکے بغیر خارج کر دیا جائے۔
سانس کا یہ عمل سکت اور طاقت کے مطابق پانچ سے اکیس بار تک کرے۔
۱۱۔ سانس کی مشق شمال رخ بیٹھ کر کی جائے۔
۱۲۔ پانچ وقت نماز ادا کرنے سے پہلے مراقبہ میں بیٹھ کر یہ تصور قائم کیا جائے کہ مجھے اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ تصور اتنا گہرا ہو جاتا ہے کہ آدمی اپنی زندگی کے ہر عمل اور ہر حرکت میں یہ دیکھنے لگتا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔
مراقبہ کی یہ کیفیت مرتبہ احسان کا ایک درجہ ہے۔ جب کوئی بندہ اس کیفیت کے ساتھ مراقبہ کرتا ہے تو اس کے اوپر غیب کی دنیا کے دروازے کھل جاتے ہیں اور وہ بتدریج ترقی کرتا رہتا ہے۔ فرشتے اس سے ہم کلام ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ رکوع و سجود میں شریک ہوتے ہیں۔ یہی وہ صلوٰۃ(مراقبہ) ہے جو حضور علیہ السلام کے ارشاد کے مطابق مومن کی معراج ہے!
==================================================

0 Komentar untuk "Murakba kiya hai murakba ke maani kiya hain"

Back To Top