Powered by Blogger.

Is post ko parrho aur kucch sikho

میں ایک جاننے والے کے گھر گیا تو و سبق آموز قصہ رونما ہوا جو آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔
میں ان کے ڈرائینگ روم میں جا کر بیٹھا تو کچن ڈرائینگ روم کے ساتھ اٹیچ تھا جس کی وجہ سے کچن میں ہونے والی گفتگو کو تھوڑا غور کرنے سے سنا جا سکتا تھا۔
دو خواتین گفتگو کر رہی تھیں جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ یہ دونوں اس گھر کی دلہنیں ہیں۔ ان دونوں کی گفتگو نے مجھے ایک بہت بڑا سبق سکھایا۔
ایک خاتون دوسری سے کہہ رہی تھی کہ ”تم پر کتنا ظلم ہوتا ہے سارا دن تم سے گھر کے کام کرواتے رہتے ہیں، ہر کوئی تمھیں نوکر کی طرح سمجھتا ہے شائد اس لئے کہ تم مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتی ہو اور مجھے دیکھو گھر میں سارا دن رانیوں کی طرح راج کرتی ہوں کوئی مجھے کچھ نہیں کہتا، جس کو کام ہوتا ہے وہ تمھیں کہتا ہے، تمھیں ان لوگوں نے گھر کی نوکرانی بنا رکھا ہے، تم اپنے شوہر کو کیوں نہیں بتاتی یہ سب ؟
“ دوسری خاتون نے انتہائی خوبصورت جواب دیا اس نے کہا :
”مجھے اس بات پر فخر ہے کہ گھر کے افراد ہر کام کے لئے میرا انتحاب کرتے ہیں کیونکہ مجھے ان کے کام کرنے سے خوشی محسوس ہوتی ہے اور جب میں اس گھر کے کاموں کو اپنا سمجھ کر کرتی ہوں تو مجھے تھکن محسوس نہیں ہوتی اور جب میرا شوہر گھر آتا ہے تو وہ گھر کے ہر فرد سے میرے لئے تعریفی کلمات سنتا ہے تو مجھ سے خوش ہو جاتا ہے اور میرے شوہر کے چہرے پر آنے والی وہ خوشی میرے دن بھر کی تھکن کو پل بھر میں ختم کر دیتی ہے اور پھر میں الله کا شکر ادا کرتی ہوں کہ میں اپنے شوہر کی نا فرمانی اور ناراضگی سے محفوظ ہوں اور باقی رہی مڈل کلاس کی بات تو الله کے نزدیک ان کلاسسز کی کوئی اہمیت نہیں وہ اپنے بندے کو تقویٰ کی بنیاد پر پرکھتا ہے، اس لئے میں اپنے شوہر کی نافرمان ہو کر اپنے رب کو ناراض نہیں کرنا چاہتی اس کے لئے چاہے مجھے کوئی بھی قربانی دینی پڑے۔ “
اس نیک بخت خاتون کی باتیں سنی تو یقین ہو گیا کہ لازماً اس خاتون کی تربیت کے پیچھے کسی عظیم خاتون کا ہاتھ ہے جس نے اپنی بیٹی کو ایسے اعلٰی اخلاق سے مزین کیا۔
اگر تحریر اچھی لگے تو مزید اچھی اچھی تحریریں پڑھنے کے لیے میری فیس بک آئی ڈی پر جائیں....
‎  ❤️عُمر فارُوق❤️

0 Komentar untuk "Is post ko parrho aur kucch sikho"

Back To Top